[right]
کاش بادل کی طرح پیار کا سایا ہوت
پھر میں دن رات ترے شہر پہ چھایا ہوتا
راہ میں آگ کے دریا سے گزرنا تھا اگر
تو نے خوابوں کا جزیرہ نہ دکھایا ہوتا
خواب ٹوٹے تھے اگر تیرے بھی میری ہی طرح
بوجھ کچھ تیری بھی پلکوں نے اٹھایا ہوتا
لمس ہاتھوں کا بھی کافی تھا لگھلنے کے لے
موم کے بت کو زامیں پر نہ گریا ہوتا
مجھ سی تخلیق کا الزام نہ آتا تجھ پر
میں اگر نقش غلط تھا نہ بنایا ہوتا
[/right]
Kash Badil Ki Terhan Pyar Ka Saya Hota
- Pearl
- Ultimate Contributor

- Posts: 8069
- Joined: Mar 30, 2009
- Location: Deep inside the sea
- Contact:
Kash Badil Ki Terhan Pyar Ka Saya Hota
Last edited by Pearl on Oct 22, 2009, edited 1 time in total.

- Pearl
- Ultimate Contributor

- Posts: 8069
- Joined: Mar 30, 2009
- Location: Deep inside the sea
- Contact:



