دل ضدّی ہے
اس کو کچھ نہ کہو
آئینوں سے چہرے مانگے
اور ناکام پھرے
چہروں میں آئینے ڈھونڈے
اور بدنام رہے
زخموں کی ٹیسیں سہتا ہے
کرچیں کنکر کانٹے چُن کر
خوش رہتا ہے
رہ لینے دو
جانے کن لہروں میں بہتا ہے
جو کہتا ہے کہہ لینے دو!
اس کو کچھ نہ کہو!
Mai ap apni moat ki tyaarion mai hon..!!!
Meray khilaaf apki Saazish fazool hai..!!!