پاکستان کو تمہاری قبروں اور تابوتوں کی ضرورت نہیں-
پاکستان کو تمہاری جوانی اور وہ گرم خون چاہیے جو تمہاری رگوں میں خواب اور آئیڈلزم بن کر دوڑتا ہے- اگر پاکستان کو اپنی جوانی نہیں دے سکتے تو اپنا بڑھاپا بھی مت دو-
جس ملک میں تم جینا نہیں چاہتے وہاں مرنا کیوں چاہتے ہو؟
باہر کی مٹی کی ٹھنڈک مرنے کے بعد برداشت نہیں ہو گی تب اپنی مٹی کی گرمی چاہیے-
نہیں شاہد جمال آپ وہیں رہیں جہاں آپ رہ رہیں ہیں-
ہر شخص کے مقدّر میں باوطن ہونا نہیں لکھا ہوتا
از عمیرہ احمد






