Joined: 30 Mar 2009 Posts: 3348
Gender:
Location: Deep inside the sea
Posted: Jul 02, 2009 Topic Views : 298 Post subject: tum se kuch nahi kahna
ھم نے سوچ رکھا ہے
چاہے دل کی ھر خواھش
زندگی کی آنکھوں سے اشک بن کے
بہہ جائے
گھر کی ساری دیواریں چھت سمیت گر جائیں
اوربے مقدر ہم
اس بدن کے ملبے میں خود ہی کیوں نہ دب جائیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
کیسی نیند تھی اپنی کیسے خواب تھے اپنے
اور اب گلابوں پر
نیند والی آنکھوں پر
نرم خو سے خوابوں پر
کیوں عذاب ٹوٹے ہیں
تم سے کچھ نہیں کہنا
گِھر گئے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اس طرح کی راتوں میں
کب چراغ جلتے ہیں کب عذاب ٹلتے ہیں
اب تو ان عذابوں سےبچ کے بھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں
جس طرح تمہیں سچ کے لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں
ہم نے سوچ رکھا ہے