[center]
کوئ بھی لمہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا
وہ شخص ایسا گیا پھر نظر نہیں آیا
وفا کے دشت میں رستہ نہیں ملا کوئ
سوائے گرد سفر، ہم سفر نہیں آیا
پلٹ کے آنے لھے شام کے پرندے بھی
ہمارا صبح کا بھولا مھر نہیں آیا
خدا کے خوف سے دل لرزتے رہتے ہیں
انہیں کبھی بھی زمانے سے ڈر نہیں آیا
یہ کیسی بات کہی شام کے ستارے نے
کہ چین دل کو مرے رات بھر نہیں آیا
ہمئں یقین ہے امجد نہیں وہ وعدہ خلاف
یہ عمر کیسے کٹے گی اگر نہیں آیا
[/center]
Koi Lamha Kabhi Loot Ker Nahi Aaya
- Pearl
- Ultimate Contributor

- Posts: 8069
- Joined: Mar 30, 2009
- Location: Deep inside the sea
- Contact:




