Home Computer & Gadgets | Automobiles | Sports | Audio Visual Entertainment | Fashion & Jewelry | Love n Dating
  Technology Art, Design & Paintings | Funny/Strange Pictures | Celebrities Xposed | Humor, Jokes, Riddles | Astrology
  Mobile Health & Fitness | Recipe Corner | Travel Tourism | Mobile Phone Reviews | Sms Collection | The Music Mania
Inspirational  Latest Topics   Chat   RegisterRegister   Log inLog in Search Forum

Amriki Tareekh ka Sab se Mash'hoor Inkaar

Post new topic Reply to topic    Home -> Inspirations -> Story Time
Goto Previous Topic   Goto Next Topic  
Author Message
raheelroy
Fan of Fun Stuff
Fan of Fun Stuff


Joined: 28 Dec 2011
Posts: 413
Gender: Male


PostPosted: May 05, 2013   Topic Views : 880   Post subject: Amriki Tareekh ka Sab se Mash'hoor Inkaar Reply with quote

امریکی تاریخ کا مشہور ترین (انکار)

دسمبر ۱۹۵۵ کی ایک سرد شام کو دِن بھر کی پُر مشقت اور تھکا دینے والے سلائی کڑھائی کے کام سے فراغت پا کر روزا پارکس نامی ایک سیاہ فام عورت، اپنےدستی تھیلے کو مضبوطی سے سینے سے چمٹائے اور اُس سے گرمی کا احساس پاتے ہوئے سڑک پر جا رہی تھی۔




دائیں بائیں دیکھ کر احتیاط سے سڑک عبور کر تے ہوئے وہ اُس بس سٹاپ پر جا کر کھڑی ہوگئی جہاں سے اُس کے گھر کی طرف جانے والی بس کو گزرنا تھا۔

تقریبا دس منٹ تک بس کا انتظار کرتے ہوئے روزا پارکس کے ذہن میں وہ افسوس ناک غیر انسانی مناظر گھوم گئے جو اُن دنوں امریکہ میں عام دیکھنے کو ملتے تھے، اور وہ تھے کسی بھی سیاہ فام کو اُسکی نشست سے اُٹھا دینا تاکہ وہاں پر ایک سفید فام بیٹھ سکے۔

یہ رویہ بھائی چارے کے جذبات یا مہذب معاشرے کی نفی تو کہاں محسوس ہوتا، اُلٹا امریکی قانون سیاہ فاموں کو اِس بات سے سختی سے منع کرتا تھا کہ وہ کسی سفید فام کے کھڑے ہونے کی صورت میں قطعی نہیں بیٹھ سکتے۔




معاملہ صرف یہاں تک ہی محدود نہیں تھا، اگر کوئی سیاہ فام بزرگ عورت کسی نوجوان سفید فام کے کھڑے ہونے کی صورت میں بیٹھی پائی جاتی تو اُس بزرگ اور بوڑھی عورت پر جُرمانہ کیا جاتا تھا۔

جی ہاں، یہ اُسی زمانے کی بات ہے جب دُکانوں یا کھانے کے ریستورانوں کے دروازوں پر فخر سے ایسی تختی لٹکائی جاتی تھی جِس پر لکھا ہوتا کہ یہاں بِلیوں، کتوں اور سیاہ فاموں کا داخلہ منع ہے۔

نسل پرستی پر مبنی یہ رویئے روزا پارکس کو غمگین اور افسُردہ کیئے رکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ یہی سوچتی رہتی کہ کب تک ہم سیاہ فاموں کے ساتھ یہ امتیازی اور کمتر سلوک جاری رہے گا؟ کب تک سیاہ فاموں کو تو قطاروں کے آخر میں رکھا جائے گا مگر سفید فاموں کے جانوروں کو بھی برابری کے حقوق دیئے جائیں گے؟ اِنہی سوچوں میں گُم روزا پارکس اپنے سینے میں درد چُھپائے بس کے آنے پر اُس میں سوار ہو گئی۔



بس میں دائیں بائیں دیکھتے ہوئے روزا کو ایک خالی نشست نظر آگئ، بس کے انتظار میں کھڑے شل ہوئی ٹانگوں کے ساتھ وہ نشست پر بیٹھ گئی، دستی تھیلے کو اُس نے مزید بھیچتے ہوئے سینے سے لگا لیا۔ اپنی سوچوں میں گُم وہ سڑک کو دیکھنے لگ گئی جسے بس گویا کھاتے ہوئے اپنی منزل کی طرف دوڑ رہی تھی۔





کُچھ ہی دیر بعد اگلا سٹاپ آ گیا جہاں سے بس میں مزید لوگ سوار ہو ئے اور بس بھر گئی۔

بس میں سوار ہونے والا ایک نوجوان سفید فام آہستگی سے اُس کرسی کی طرف بڑھا جہاں روزا پارکس بیٹھی ہوئی تھی۔ سفید فام اِس انتظار میں تھا کہ روزا اُس کیلئے نشست چھوڑے گی مگر آج معاملہ اُلٹا ہو گیا تھا، روزا نے سفید فام کو اُچٹی سی نگاہ سے دیکھا تو سہی مگر اُس کیلئے نشست خالی نہ کی اور ایک بار پھر اپنی نظریں باہر کی طرف سڑک پر ٹِکا دیں۔ سفید فام کے چہرے پر توہین کا احساس نمایاں تھا۔

یکا یک ہی بس میں سوار ہر مسافر کا رویہ معاندانہ ہو گیا، لوگ طنز سے بھی بڑھ کر روزا کو گالی گلوچ تک کرنے پر اُتر آئے تھے اور اُسے فورا اُس سفید فام کیلئے نشست خالی کرنے کیلئے کہہ رہے تھے۔

لیکن روزا اپنے موقف پر قائم خاموشی سے اپنی نشست پر براجمان تھی۔ بس کا ڈرائیور ایک سیاہ فام عورت کی اِس قانون شکنی کی جراءت اور سفید فام کی توہین پر یوں خاموش نہیں رہ سکتا تھا، اُس نے بس کا رُخ پولیس سٹیشن کی طرف موڑ دیا تاکہ پولیس اِس سیاہ فام عورت کو ایک معزز سفیدفام کی توہین کرنے کی جراءت کا مزا چکھا سکے۔



اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا، پولیس نے روزا پارکس گرفتار کر کے تحقیق کی اور بعد میں اُسکا جرم ثابت ہونے پر اُسے ۱۵ ڈالر جرمانے کی سزا سُنائی گئی، تاکہ اُسکی سزا دوسروں کیلئے ایک مثال بن جائے اور آئندہ کوئی ایسی جراءت نہ کرے۔



بات تو چھوٹی سی تھی مگر امریکا کی سر زمین پر ایک چنگاری بن کر گری۔ مُلک بھر میں بسنے والے تمام سیاہ فام روزا پارکس کے ساتھ پیش آنے والے اِس ناروا سلوک پر آگ بگولہ ہو گئے اور ایک تحریک چل پڑی کہ وہ نقل و حمل کے تمام وسائل کے خلاف اُس وقت تک احتجاج کے طور پر بائیکاٹ کریں گے جب تک امریکی حکومت اُن کو تمام تر انسانی حقوق دینے پر آمادہ نہیں ہوتی اور اُنکے ساتھ مہذب معاملے کا وعدہ نہیں کر لیا جاتا۔

یہ بائیکاٹ اپنی تمام تر ثابت قدمی کے ساتھ ایک طویل عرصے تک چلا، سیاہ فاموں نے ۳۸۱ دنوں تک احتجاج کیا اور امریکی حکومت کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔

روزا پارکس کی فتح ہوئی اور عدالت نے مُلک میں نہ صرف نسلی امتیاز کے اِس قانون کو بلکہ اِس جیسے کئی امتیازی رواجوں کو فوری طور پر ختم کردیا۔





اور اِس واقعہ کے ۴۶ برس بعد مؤرخہ ۲۷ اکتوبر ۲۰۰۱ کو، امریکی تاریخ میں پیش آنے والے اِس تاریخی واقعے کی یاد ایک بار پھر اُس وقت تازہ ہو گئی جب مِیشی گن کے شہر ڈیئر بورن میں واقع ھنری فورڈ عجائب گھر کے منیجر سٹیو ھامپ نے اُس پرانی بس کو خریدنے کا فیصلہ کیا۔

جی ہاں 1940 ماڈل کی یہ بس جس میں روزا پارکس کے ساتھ وہ سانحہ پیش آیا تھا، ایسا سانحہ جس نے امریکا میں انسانی حقوق کی تحریک کو جنم دیا اور پھر سیاہ فاموں کو بھی برابر کے حقوق حاصل ہو گئے۔



اور یہ پرانی بس چار لاکھ بیانوے ہزار ڈالر میں خرید کی گئی۔

سن ۱۹۹۴ میں جب روزا پارکس کی عمر ۸۰ سال تھی, اُس پر لکھی گئی ایک کتاب بعنوان خاموش طاقت میں وہ اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اُس دن مجھے اپنے ماں باپ اور اجداد بہت یاد آئے تھے، اُس دن میں نے اللہ کے حضور گڑگڑا کر التجاء کی تھی کہ یا رب تو ہی ہے جو کمزوروں کو طاقت سے نواز سکتا ہے۔



اور پھر ۲۴ اکتوبر ۲۰۰۵ کو ۹۲ سال کی عمر میں وفات پانے والی اِس بہادر خاتون کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ہزاروں سوگوار جمع ہوئے۔

وہ با ہمت اور بہادر خاتون، جِس نے انسانی حقوق کی برابری کیلئے علم بُلند کیا تھا۔

روزا پارکس کے جنازے میں کئی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی اور ہزاروں لوگ ڈھاریں مار مار کر رو رہے تھے، امریکا کا جھنڈا سر نگوں ہو کر اِس عظیم خاتون کو سلامِ عقیدت پیش کر رہا تھا۔

روزا پارکس کی میت کو وفات سے دفنانے تک امریکی کانگریس کی ایک عمارت میں رکھا گیا، تعظیم کا یہ اعزاز سربراہانِ مملکت یا اہم ترین شخصیات کو دیا جاتا ہے۔

۱۸۵۲ سے لیکر آج تک صرف ۳۰ ایسے لوگ گُزرے ہیں جنکو یہ اعزاز حاصل ہوا جبکہ اِن تمام ۳۰ اشخاص میں سے روزا پارکس واحد خاتون ہیں۔

روزا پارکس اِس دنیا سے رُخصت ہوئیں تو اپنے سینے پر کئی تمغے سجائے ہوئے تھیں، 1996 میں اُنہیں آزادی کے صدارتی تمغہ سے نوازا گیا جبکہ 1999 میں اُنہیں کانگریس سے گولڈ میڈل عطا کیا گیا۔

روزا کیلئے اِن سب اعزازات سے بڑھ کر اُنکا اپنا ایک لفظ تھا اور وہ تھا (نہیں)، یہ نہیں امریکا کی تاریخ کا سب سے طاقتور انکار تھا جِس کی ہاں میں ہاں مِلانے میں اُس کی تمام سیاہ فام نسل نے ساتھ دیا تھا۔

***

خُدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو خیال جِس کو خود اپنی حالت کے بدلنے کا
Back to top  
Rizwan
Ultimate Contributor
Ultimate Contributor


Joined: 07 Jun 2010
Posts: 11580
Gender: Male
Location: Multan

PostPosted: May 05, 2013     Post subject: Reply with quote

good sharing bro
Back to top  
Display posts from previous:   
Post new topic   Reply to topic    Home -> Inspirations -> Story Time All times are GMT
Page 1 of 1
Quick Reply
Message body:

Add smilies
 

 
Here You can
Download files

Top 5 Most Viewed Topics in Current Forum
Life Story of king of Brunei... Must See and Read!
Love Story
True Sad Love Story Of Swallows
Beautiful Love Story
FAMILY
5 Latest Topics in this Forum
Amma Ka Dil Aisa He Tha
The Real Robbers
Columbus Discovered the Earth is Round
Ek din ek 18 saal ki ladki
For all smokers

Top Favourite Posts

Motorola VE75 Dual SIM Mobile

Diamond Encrusted Nokia 8800 Sapphire Arte

Eiffel Tower Concept Phone
Disclaimer | Privacy Policy | Terms & Conditions | Contact us | FAQ| Friend Sites | Powered by phpBB